Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

صفدر علی چوہدری مرحوم ۔۔ مختصر تعارف

  1.     جناب صفدرعلی چودھری 1941 ءمیں جالندھر میں چودھری دین محمدکے ہاں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کے والدین خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آگئے اور اوکاڑہ میں مقیم ہوئے۔بعد میں ان کے خاندان کے لوگوں کو لیہ میں آباد کاری کے لیے کچھ اراضی ملی ،تووہ لیہ منتقل ہو گئے۔ انہوں نے انٹراوکاڑہ سے پاس کیا۔ ایف اے میں ہی اسلامی جمعیت طلبہ سے متاثر ہوئے۔ بی اے ساہیوال سے کیااور ایم اے پولیٹیکل سائنس کے لیے پنجاب یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ 1967ءمیں پنجاب یونیورسٹی سے امتیاز کے ساتھ سیاسیات میں کامیابی حاصل کی۔ان کے اساتذہ چاہتے تھے کہ وہ پنجاب یونیورسٹی میں ہی تدریس کے شعبے سے منسلک ہوں۔تاہم مولانا سید ابوالاعلیِ مودودی کے حکم پرانہوں نے اپنی خدمات جماعت اسلامی کے مرکزکو پیش کردیں۔ مرکز جماعت میں انہوں نے شعبہ نشرو اشاعت میں اپنی ذمہ داری سنبھالی۔اگرچہ ان کا تقرر شعبہ نشرو اشاعت کے ناظم جناب نعیم صدیقی کے ساتھ نائب ناظم شعبہ نشرو اشاعت کے طور پر ہوا تھا،لیکن ان ہی دنوں نعیم صدیقی صاحب نے شعبے کی نظامت چھوڑ دی،توجناب صفدر علی چودھری ناظم شعبہ نشرو اشاعت،یعنی سیکرٹری اطلاعات بنا دیے گئے۔ ناظم نشرواشاعت کی ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ ہی ا نہوں نے جماعت اسلامی کی رکنیت کا حلف بھی اٹھایا۔اس سے پہلے وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے رکن تھے سید مودودی،میاں طفیل محمداور قاضی حسین احمد کے دور میںوہ اس شعبے کے سربراہ رہے۔قاضی صاحب کے دورآخر میں انہیں شعبہ تعلقات عامہ کا سربراہ بنا دیا گیاتھا۔وہ 2012ءتک بڑی سرگرمی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے،یہاں تک ان کی صحت اتنی خراب ہو گئی کہ انہیں اپنے فرائض سے سبک دوش ہو نا پڑا۔
        جناب صفدر علی چودھری کو قدرت نے بہترین صلاحیتوں سے نوازا تھا۔اس کا اظہار انہوں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکن اور رہنما کے طور پر ہی کر دیا تھا۔پہلے پنجاب یونیورسٹی کے ناظم بنائے گئے،پھرسید منور حسن صاحب ناظم اعلی بنے تو یہ ان کے ساتھ صوبہ مغربی پاکستان)موجودہ پاکستان( کے ناظم رہے۔ ان کی اعلیِ صلاحیتوں کی بنا پر انہیں تعلیم سے فارغ ہوتے ہی یونیورسٹی میں لیکچرر شپ کی پیش کش ہوئی،لیکن انہوں نے اپنی زندگی تحریک اسلامی کے لیے وقف کردی۔ وہ صحیح معنوں میں جماعت اسلامی کے ہمہ وقتی کارکن تھے۔انہیں قیادت کی طرف سے جو کام تفویض کیا جاتا،اس کی بجا آوری میں رات دن ایک کر دیتے تھے۔ کئی برس تک وہ جماعت اسلامی کے سیکرٹری اطلاعات کے فرائض انجام دینے کے ساتھ ساتھ،ہفت روزہ ایشیا کے ایڈیٹرکے طور پر بھی کام کرتے رہے۔
    جناب صفدر علی چودھری گزشتہ چند برسوں سے علیل تھے، وہ ذیابیطس کے موذی مرض میں مبتلا تھے۔تیرہ جنوری 2018کی صبح انہوں نے منصورہ ہسپتال میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔اسی شب نماز عشا کے بعد شیخ الحدیث مولانا عبدالمالک نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور وہ محافظ ٹاﺅن لاہور میں آسودئہ خاک ہوئے۔ اللھم اغفرہ وارحمہ ونور قبرہ۔ جناب صفدر علی چودھری ایک نیک نہاد اور پاک فطرت انسان تھے۔محبت،مروت اور خوش مزاجی ان کی سیرت کے بنیادی عناصر تھے۔اللہ تعالی ان کی کمزوریوں سے صرف نظر فرمائے، ان کی حسنات کو قبول کرے اورانہیں جنت میں اعلی ترین مقام عطا فرمائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس