Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

رواں سال میں جمعیت کی سرگرمیاں


  1. رب نواز ملک

    سیکرٹری اطلاعات اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان


    طلبہ اور نوجوان جب عزم کر لیں تو پھر حالات بدلتے دیر نہیں لگتی. پاکستان طویل عرصے سے دہشت گردی، کرپشن اور توانائی کے بحران کا شکار رہا ہے، مایوسی کی فضاء میں اگر کسی نے امید کی کرن دیکھائی ہے تو پاکستان کا نوجوان طبقہ ہے، جس نے ہمت عزم اور حوصلے کے ساتھ پاکستان کی بقا کے لیے عملی جدوجہد کی ہے. علمی میدان ہو یا عملی میدان، پاکستان کا ہنر نکھر کر سامنے آیا ہے. ارفع کریم، علی معین نوازش، حارث اور ہزیر سمیت کئی کم عمر طلبہ نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذہین قوم کے طور پر شناخت دی ہے. خود مائکروسافٹ اور کیمبرج کے لوگ بھی حیران ہیں کہ کم سے کم سہولیات کے باوجود اتنا بہترین ٹیلنٹ ابھرنا حیران کن ہے. گلاس خالی دیکھنے کے بجائے گلاس بھرا ہوا دیکھنا بھی پاکستانی طالبعلم کا خاصا ہے، پاکستان ان ممالک کی فہرست میں اوپری درجوں میں ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد 60% سے زائد ہے. دنیا بھر کے ممالک میں نوجوانوں کو اور خصوصاً طلبہ کو مثبت سرگرمیاں دی جاتی ہیں. تفریحی پروگرام اور کھیلوں کے میدان جب آباد ہوتے ہیں تو طلبہ کی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ طلبہ مقصدِ زندگی سے آگاہ ہوتے ہیں. یوں مقصدیت سے آشنا نوجوان آگے بڑھنے اور ملک کو مسائل کے جنجال سے نکالنے کا سوچنے لگتے ہیں۔اب یہی دیکھ لیں، زندگی کی اہمیت سے بے  پرواہ نوجوان شاہراہوں پر "ون ویلنگ" یا "اسٹریٹ کرائم" کرتے نظر آتے ہیں. پھر تعلیمی اداروں میں منشیات کا بڑھتا رجحان نہایت خوف ناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے. جس نے والدین اور اساتذہ کو پریشان کر دیا ہے. دوسری طرف ملک بھر میں ایسا کوئی شعبہ موجود نہیں ہے جو مستقل بنیادوں پر دلچسپ اور تفریحی سرگرمیاں منعقد کرے. لے دے کر اگر کبھی منعقد ہوتے تھے تو بسنت جیسے خونی تہوار اور پاکستانی کلچر سے متصادم حیاء سوز پروگرامات... رہی سہی کسر کو پورا کرنے کے لیے ٹیلی ویڑن اور انٹرنیٹ نمودار ہوا... لیکن ایک تو وہاں "انٹرٹینمنٹ" کا معیار انتہائی سطحی ہے دوسرا بیڈ پر لیٹے یا صوفے پر دراز ہو کر آپ ایک حد تک ہی انجوائے کر سکتے ہیں۔مشاعرہ، کتاب میلہ، ادبی مقابلے اور اس کے ساتھ ساتھ سپورٹس فیسٹیولز، نیلام گھر، ٹیلنٹ ایوارڈ کے پروگرامات کو کسی زمانے میں غیر نصابی سرگرمیاں کہا جاتا تھا لیکن اب انہیں ہم نصابی سرگرمیاں تسلیم کیا جا چکا ہے. کیونکہ یہی سرگرمیاں درحقیقت امید دلاتی ہیں، کچھ کر دیکھانے اور آگے بڑھنے کا جذبہ پیدا کرتی ہیں. خود اعتمادی اور قیادت کی صلاحیت بھی انہی مواقع سے پیدا ہوتی ہے۔ الحمداللہ، اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنے آغاز سے ہی (1947ء ) طلبہ کے لیے ہم نصابی سرگرمیوں کا ایک مستقل سلسلہ شروع کر رکھا ہے. جس کی گواہی ہر طبقہء زندگی کے افراد نے دی ہے. حالیہ دہشت گردی، بڑھتی کرپشن اور توانائی کے بحران میں کوئی ادارہ یا فرد تفریحی زرائع پر رقم خرچ کرنے کو تیار نہیں ہے. جمعیت نے معاشرے میں تفریح کی اس کمی کو بروقت محسوس کیا اور طلبہ کے لیے مفید، صحت مند، تفریحی اور علمی پروگرامات کا بڑے پیمانے پر انعقاد کا فیصلہ کیا. اسلامی جمعیت طلبہ عرصہ دراز سے ملک بھر میں سینکڑوں ایسے میگا ایونٹ منعقد کرتی آرہی ہے جن میں طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کرتی ہے. ان ایونٹس میں جہاں ٹیلنٹ کو پزیرائی ملی وہاں تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کو شرکت کا موقع بھی ملا. ان پروگرامات میں شرکت کرنے والے افراد کی متفقہ رائے یہی تھی کہ ہم جمعیت کی پروگرامات میں پہلی بار شریک ہوئے ہیں اور یہ نہایت شاندار پروگرامات ہیں. اس کی ایک مثال پنجاب یونیورسٹی میں ہونے والا کتاب میلہ ہے جس کی کوریج اب عالمی میڈیا پر بھی ہونے لگی ہے. اس 45 سالہ روایت کے آغاز کا سہرا جمعیت کے سر ہے.۔جمعیت نے تہذیبی دائرہ کار میں رہتے ہوئے تفریح اور گہماگہمی کا خوبصورت تصور پیش کیا ہے، جو اپنی مثال آپ ہے، یہی وجہ ہے کہ جمعیت کی علم دوست سرگرمیوں میں طلبہ و طالبات کے ساتھ ساتھ فیملیز نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی ہے. حال ہی میں کراچی میں ٹیلنٹ ایکسپو اور لاہور میں SEE Lahore کے نام سے نہایت عمدہ اور شاندار ایونٹ منعقد کیے گئے ہیں. یہ پروگرامات دونوں شہروں کے ایکسپو سینٹرز میں منعقد ہوئے. جس میں بہت بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کر کے یہ بات ثابت کی کہ آج بھی لوگ مہذب تفریح کی دلدادہ ہیں. جمعیت کے ان فیسٹیولز میں ادبی مقابلے، ملی نغمے، تخلیقی اسٹیج ڈرامے، ادبی مشاعرہ، نشید نائٹ، ای گیمنگ، اسکولز سیشن، ہیروز سیشن اور نیلام گھر جیسے منفرد پروگرامات رکھے گئے تھے. اس کے علاوہ لاہور اور کراچی کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیلنٹ ایوارڈ بھی پروگرام کا حصہ تھا، صرف لاہور میں تین ہزار ذہین طلبہ کی پزیرائی کے لیے شیلڈ اور سرٹیفکیٹ دئے گئے. ان کی موٹیویشن کے لیے معروف ٹرینرز کی تقاریر بھی پروگرام میں شامل تھیں۔جمعیت ملک بھر میں منفرد پروگرامات کا ایک خوبصورت سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، پشاور میں Student Talent Expo کے عنوان سے بہت بڑا پروگرام منعقد کیا گیا، جو بلامبالغہ شہر کی سطح پر طلبہ کے لیے سب سے بڑا پروگرام تھا، اس پروگرام میں دوہزار پوزیشن ہولڈرز طلبہ میں انعامات تقسیم کیے گئے. اسی طرح کوئٹہ، گلگت، مظفر آباد، اندرون سندھ اور اسلام آباد میں ہونے والے میگا فیسٹیولز میں کثیر تعداد میں افراد نے شرکت کی. ان پروگرامات میں فوڈ سٹالز، بک سٹال سمیت یوتھ کے مختلف برینڈز نے بھی اپنے سٹال لگائے. اسی طرح اسلامی جمعیت طلبہ نے  شیخوپورہ میںEYE،اوکاڑہ میں BABO، ساہیوال میںSEE، بہاولپور میںBYE، اسلامی یونیورسٹی میں MEE کے عنوان سے ایسے منفرد میگا ایونٹ منعقد کیے جو ملک بھر میں ایک نیا ٹرینڈ سیٹ کر رہے ہیں. ان سب میگا ایونٹس میں ایک سلوگن "آئو بدلیں پاکستان" کو اجاگر کیا گیا. جس کا مقصد معاشرے میں امید جگانا، پاکستان اور اسلام سے محبت پیدا کرنا اور قومی ہنر کی پذیرائی کرنا ہے. پاکستان قدرتی وسائل سے مالامال ملک ہے، زراعت میں خود کفیل ہے، یہاں کا آم اور مالٹا دنیا بھر میں ایکسپورٹ کیا جاتا ہے. خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے، اس کے شمالی علاقوں کو سوئزرلینڈ اور سنگاپور سے تشبیہ دی جاتی ہے. پاکستان اپنے قوت بازو کے بل پر ایٹمی قوت بن چکا ہے، چین کی معاونت سے فائٹر طیارہ بنا چکا ہے. میزائل ٹیکنالوجی میں دیگر ممالک سے کئی گناہ آگے ہے. پاکستان میں چلنے والی بہت سی پراکسی وارز کے باوجود نہ صرف یہ زندہ و تابندہ ہے بلکہ آگے ہی آگے بڑھتا جاتا ہے. پھر اب CPEC کی بدولت گہری بندر گاہ اور بہترین روڈ انفراسٹرکچر کی جانب گامزن ہے. اسی شعور کو نوجوانوں میں عام کرنے کے لیے اور ان میں ایک نیا عزم پیدا کرنے کے لیے "آئو بدلیں پاکستان" کے سلوگن کو اجاگر کیا گیا ہے تاکہ طلبہ مذید محنت اور زیادہ لگن کے ساتھ ملک کو ترقی یافتہ اقوام کی فہرست میں شامل کر سکیں۔

    میں جمعیت میں اس وقت شامل ہوا تھا جب بنگلہ دیش بن چکا تھا۔لیکن اس پہلے میں جمعیت سے آشنا ضرور تھا۔  جمعیت والوں سے ملاقات ر ہتی تھی ،۷۱ کا جو حادثہ تھا اس نے مجھے بہت تبدیل کیا پاکستان کیساتھ تعلق اس طرح کا تھا کہ میں ذہنی اور فکری طور مسائل کا شکار ہوا تھا۔ اس زمانے میں جمعیت بنگلہ دیش نامنظور تحریک چلارہی تھی میں اس شامل ہوا اس وقت میں سیکنڈ ائیر میں تھا اس کے بعد میرا جمعیت کیساتھ ایک سفر رہا ہیں،۷۳ میں یونیورسٹی میں آیا یہ یونین کا دور تھا میں نے جمعیت کیطرف سے الیکشن لڑا اس وقت پہلی بار جمعیت گجرات سے الیکشن جیت گئی تھی،اس کے بعد جمعیت کیساتھ ایک طویل جدوجہد ک۔ ۱۹۷۹ء میں  میں نے ایم اے کیا ،ہمارے زمانے میں تسنیم عالم منظر ، ظفرجمال بلوچ اور مطیع الرحمن نظامی اور لیاقت بلوچ ناظمین اعلیٰ تھے۔ مطیع الرحمٰن نظامی صاحب سے ایک بار گجرات میں ملاقات ہوئی ۔ محترم لیاقت بلوچ کے ساتھ اچھا وقت گزرا۔

    جس زمانے میں ہم تھے اس زمانے میں سب سے برا خطرا کمیونیزم کا تھا۔ظاہری بات ہے کمیونیزم ہمارے بارڈرز  پر ٓاگیا تھا۔اس وقت یہ جتنے بھی بڑے بڑے لوگ تھے یہ سارے کمیونسٹ تھے حتیٰ کہ تمام قوم پرست کمیونیسٹ تھے کیونکہ ۱۹۲۰ میں آذربائی جان کے اندر کمیونسٹوں نے ایک فیصلہ کیا تھا کہ ہم قوم پرستی کا راستہ اختیار کریں جمہوریت پر اس کا یقین نہیں تھا صرف انقلاب کی بات کرتے تھے۔ اس زمانے میں یونیورسٹیز کے اندر اگر ان کے خلاف علمی بنیاد پر کوئی لڑنے والا کوئی تھا تو وہ اسلامی جمعیت طلبہ تھی اور کوئی نہیں تھا۔

    میرے خیال میں سیکولرزم کے خلاف کوئی لٹریچر نہیں آسکا کمیونیزم کیخلاف  جمعیت کو مولانامودودیؒ  کی علمی سرپرستی حاصل تھی، مولانا مودودیؒ نے بہت کچھ لکھاتھا اور کام بھی اس پر کررہے تھے،سیکولریزم کے مقابلے میں ہمارے ہاں شروع ہی سے لٹریچر کم ہے حالانکہ مولانا مودودی نے اس زمانے میں بھی سیکولرزم کے بارے میں لکھا ۔لیکن جس طرح کمیونیزم کو توڑا گیا۔ اس طرح سیکولرزم کا توڑ نہیں ہو سکا۔کیونکہ کمیونزم کے خلاف سارے علماء متحد ہوئے تھے لیکن سیکولرزم کے مقابلے میں اسی طرح متحد نہ ہوسکے کیونکہ سیکولریزم نے ایک کوپریٹ کلچرکالبادہ  اُوڑھا ہوا ہے، اس نے جمہوریت کا لُبادہ اُوڑھا ہوا ہے، لبرلیزم کا لُبادہ اورھا ہوا ہے  اس نے مذہبی راواداری کا لبادہ اوڑھا ہوا ہے اور  پتہ نہیں کیا کیا لبادے اوڑھے ہوئے ہیں جس کیوجہ سے  ہم لوگ اسلام سے غافل ہورہے ہیں اس کی علمی بنیاد فراہم نہ ہوسکی ،جو بہت ضروری ہیں۔

     سٹوڈنٹس یونین بہت اچھی چیز تھی،آپ کی موجودہ جتنی بھی لیڈرشپ ہیں اسی زمانے میں طلباء قیادت سے نکلی ہوئی ہیں،لیاقت بلوچ،جاوید ہاشمی سے لے کر یوسف رضا گیلانی تک یہ ساری سٹوڈنٹس لیڈر شپ تھی۔

     ہمارا لٹریچر رُک گیا ہے۔ ہمارے چیلنجز اور ہوچکے ہیں ،اب ہمارے اوپر حملے اور طرح کے ہیں مطلب ویسٹ کی طرف سے پورے کے پورے کوآپریٹ نظام کی طرف سے ہمارے اوپر حملے ہیں، بینکنگ سسٹم کی طرف سے حملے ہیں ہماری اقدار کو جدید مغربی تہذیب بنایا گیا جو بہت سخت حملہ ہے۔ 

    ایک زمانے میں سارے بولنے والے جمعیت کیطرف سے تھے اب اسی طرح  نہیں ہے میڈیا میں پیچھے کام کرنے والے تو بہت ہیں لیکن سامنے آنے والے نہ ہونے کے برابر ہیں۔

    علم کا کوئی نعم البدل نہیں ،میڈیا کے اندر بولنے والے علمی بنیاد پر تیار کئے جاسکتے ہیں۔ ہمارے زمانے میں جمعیت کا کارکن بہت متحمل مزاج قسم کا کارکن تھا اب تحمل بہت کم ہوا ہیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس