Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

پاکستان کی تعمیر اور استحکام

  1.                                         لیاقت بلوچ
                                        سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان


    پاکستان کی آزادی بڑی نعمت ہے اور اس کا تحفظ اہل پاکستان کے لیے ایک آزمائش بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر طرح کی نعمتوں اور صلاحیتوں سے مالا مال کیا ہے اور پاکستانیوں کو گوناں گوں صلاحیتوں سے نوازرکھا ہے۔ لیکن کئی خرابیاں مثلاً جذباتی پن ، منفی رجحانات اور اخلاقی اقدار کا زوال بھی موجود ہے بد قسمتی سے ان کو قومی مزاج بنادیاگیاہے۔ معاشرہ میں جذباتیت ، جوش خطابت ، گفتگو میں دلیل و شائستگی کی بجائے ہلہ گلہ زور پکڑ گیا ہے اوراب یہ طرز معاشرت بنتا جارہاہے ۔ اس میںکوئی شبہ نہیں کہ حوادث کامقابلہ کرنے ، نازک ذمہ داریوں اور آزمائشوں سے عزت کے ساتھ عہدہ برا ہونے کے لیے پرعزم رہنے ، پُر جوش جذبوںکا اظہار کرنے کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے ۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آزمائش ،خطرات اور ملک و ملت کو درپیش امتحانات میں دانش مندانہ ، فہم و فراست کی بنیاد پر سیاسی و مذہبی قیادتیں رہنمائی کرتی ہیں۔ وگرنہ جذباتی وہیجانی کیفیت اور آتش نوائی بہت جلداپنا اثر کھو دیتی ہے اور مسائل و مشکلات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
    نظریہ پاکستان حقیقت میں اسلامی نظریہ ہی ہے ۔ اس کی جڑیں قرآ ن و سنت کی تعلیمات سے وابستہ وپیوستہ ہیں۔ اخلاقی ،معاشرتی ، معاشی اور قانونی حقوق کے لیے خیر خواہی ، ہوش مندی ،انصاف و دیانت کا ماحول ناگزیر ہے ۔اسی سے نظریہ پاکستان کا حق اداہوسکتاہے۔ معاشرتی حوالوں میں اخلاص ، دردمندی ،جوابدہی اورتقویٰ کی بنیاد ختم ہوجائے تونفسا نفسی ، دہشت ،حلال کی بجائے حرام اور ظلم زور پکڑتاہے۔ نتیجتاً پاکستان میں عام آدمی کی جان ومال، عزت ،روزی روٹی سب غیر محفوظ ہیں۔ اسی وجہ سے پاکستان دشمن قوتیں اپنا کھیل کھیلنے میں آزاد ہیں جس سے تعمیر اور استحکام خواب بنتا جارہاہے۔
    پاکستان ایسا ملک ہے جس میں مسلم غالب اکثریت کے ساتھ ساتھ ،غیر مسلم اقلیت بھی آباد ہے۔ مختلف فرقے اور قومیں بھی موجودہیں ۔ کلمہ گو اسلامیان پاکستان کی مسالک کی بنیاد پر تقسیم بھی ایک کھلی حقیقت ہے ۔اس صورت حال میں نظریہ پاکستان پر پختہ یقین کے ساتھ عمل درآمد ، باہمی رواداری اور برداشت ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے جمہوری طرز عمل ہی پائیدار طریقہ ہے ۔قیادت اور نظام کی تبدیلی کے لیے محض جمہوریت اور انتخابات ہی نہیںبلکہ جمہوری رویوں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ شائستگی او رباہمی احترام ہی ملت کی تعمیر کے لیے بنیادبنتے ہیں۔ جوش، جذبہ اور الزام تراشیوں کی بجائے جدوجہد وقت کا سب سے بڑا تقاضا ہے۔ یہ مسلّمہ اور عالمگیر حقیقت ہے کہ اقتصادی اور سماجی اعتبار سے مغلوب قوم کو باعزت زندگی گزارنے کے لیے غالب اقوام کے مقابلے میں دوگنا بلکہ چہار گناہ محنت اور جانفشانی سے کام کرنا ہوتاہے۔ حکمت و دانش بڑی متاع ہے لیکن اس گم شدہ متاع کی تلاش اخلاص اور لگن سے ہی ممکن ہے۔ جن قوتوں نے بڑے بڑے سیاسی معرکے سَر کیے ہیں ، مخالف کو اپنی قوت سے سرنگوں کیا ہے ، انہوںنے جوش خطابت کی بجائے مناسب الفاظ کے بر وقت استعمال سے کام لیا ہے ۔ ایسی اقوام متوازن رویے اور ڈائیلاگ سے بڑے بڑے مسائل حل کرلیتی ہیں لیکن وقتی اُبال اور دھواں دھار جذبات کااظہار ،خود انسان کو بے وزن بھی کرتاہے اور ملک و ملت کی تعمیر ، استحکام اور خوشحالی کے راستے کی دیوار بھی بن جاتا ہے۔
    70سال آزادی کو ہوچکے ہیں۔ ہم اس دوران ذلت اور رسوائی کے کئی مدو جزرسے گزرے ہیں۔ آج بھی ماضی کی مسلسل غلط روش اور منفی رویوں نے ملک کو مشکلات وخطرات سے دوچار کررکھاہے۔ جب کہ اسی مدت میں ہمارے ساتھ آزادی حاصل کرنے والے ملک تعلیم ، صحت ، جمہوریت او ر اقتصادی ترقی میںہم سے کہیں آگے نکل گئے ہیں ۔ پاکستان کو دوسروں کے ایجنڈا پر عمل پیرا ہونے سے ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے۔ اس وقت بھی قومی سلامتی ، اقتصادی صورت حال ،قومی وحدت اور جمہوریت وپارلیمانی نظام کے لیے اندرونی اور بیرونی حقیقی خطرات دیوار پر لکھے نظر آتے ہیں۔ تعمیر نواور استحکام ،صبر واستقلال ،حکمت و دانش ، مسلسل جدوجہد اور طویل المیعاد سعی و عمل کی محتاج ہے۔ ان حالات میں پاکستان کی تعمیر واستحکام کے لیے جوش ، ہوش ،صبر آزماجدوجہد اورامانت ودیانت کی ضرورت ہے۔ موجودہ حالات میں قیام پاکستان کے مقاصد سے انحراف اور اسلامی اصولوں کے برعکس ایک ہمہ گیر نظام زندگی ہم پر مسلط کردیاگیاہے ۔ اس نظام نے ہمیں اپنے اندراس طرح جکڑ لیا ہے کہ کشکول اٹھائے ملک وملت کی عزت نیلا م کررہے ہیں۔ اب یہ سوال پیداہوچکا ہے کہ اس دلدل اورگرداب سے کیسے نکلا جائے اور اس کام کو کیسے کیاجائے ؟
     ؎فرد قائم ربط ملت سے ہے ،تنہا کچھ نہیں
    موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
    ہمارے ماحول میں جذبات کے اظہار کے بے شمار ذرائع موجود ہیں ، ابلاغ کی ترقی نے اور بھی نئے در واکر دیئے ہیں لیکن سینٹ ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیاں معمول کے تعمیری کام کی بجائے ہنگامہ خیزی کے مراکز بن گئی ہیں۔آزاد میڈیا کے ٹاک شوز ریٹنگ کے چکر میں ،جذبا تی طرز ِاظہار اور الزام تراشیاں ، قومی مزاج میں اور زیادہ اشتعال پیدا کررہے ہیں ۔لگتا ہے کہ ظلم وستم کے خلاف صدائے احتجاج قصد اً دبائی جارہی ہے۔ عوام مایوس ہو کرہمت ہار رہے ہیں۔ جرأت وبہادری کی بجائے بزدلی اور خوشامد ان کی عادت بن گئی ہے۔ رسول اللہ ﷺنے صرف یہی حکم نہیں دیا کہ انسان اپنے آپ کو ظلم کرنے سے بچائے رکھے بلکہ اس بات کو بھی اہل حق کا فریضہ ٹھہرایاکہ وہ ظالم کو ظلم سے روکیں اور ستم گروں کا ہاتھ پکڑیں ،اس طرح حکمت کے ساتھ اپنی صلاحیتوں اور طاقت سے ظلم کرنے والوں کا مقابلہ کریں ۔ مقابلہ صرف بندوق اور لاٹھی و تلوار سے نہیںہوتابلکہ ہر اس طریقہ سے کیاجاسکتاہے جو دشمن کو ظلم سے روکنے میں مؤثر کردار اداکرسکتا ہو۔ جمہوری نظام میں ووٹ بھی بڑی طاقت ہے۔ اس کے ذریعے انسان تخت اقتدار پر بیٹھتابھی ہے۔وہ چاہے توعوام کی خدمت ، ملک و ملت کی تعمیر و استحکام کافریضہ ادا کرے اوراَمر ہوجائے یا ظلم و جبر، کرپشن بدعنوانی ،اختیارات کے ناجائز استعمال کرکے ملک وملت کی بربادی اور تحمل وبرداشت کی بجائے باہمی مفادات کو فروغ دے کر سیاسی اعتبار سے اپنے آپ کو تختۂ دارکی طرف لے جائے ۔ ایک محب وطن ، عوام کی خیر و فلاح کا جذبہ رکھنے والوں کے لیے یہ رویے بربادی کاباعث ہوتے ہیں ۔ پاکستان کی دشمن قوتیں تو جنگی اورمعاشی ، خوف و لالچ کے ہر ہتھیار سے حملہ آور ہیں ۔ اپنی صفوں کو درست کرنا، گھر کی حقیقی صفائی کرنا اور ایسی حکمت عملی اختیار کرنا جس سے وطن عزیز کی تعمیر واستحکام کی جڑیں مضبوط ہوںاور منفی رویوں ، لاحاصل جوش وجذبہ ، نااہلی اوربددیانتی کی جگہ ہوش ، حکمت ودانش ،برداشت وتدبر پیداہو۔ معمولی ذاتی مفادات کے لیے رات کی تاریکی کودن کی روشنی کہنے سے باز رہنا چاہیے۔ میری دانست میںچند بنیادی امور پر اہل دانش ، صاحب الرائے اور پالیسی سازوں کو سوچنا ہوگااور عمل کرناہوگا اسی سے ماحول کی بہتری کے لیے پیش رفت ہوسکتی ہے۔
    l    پاکستان میں یکسوئی اور اعتماد کے لیے قرار دادمقاصدسے راہنمائی ،آئین پاکستان کی بالادستی پر پختہ یقین پیدا کرلیاجائے ،اغیار کی نقالی  ہمیں زیب نہیں دیتی ۔ ایک قوم بننے کے لیے اپنے قومی نظریہ پر اخلاص سے عمل کی ضرورت ہے۔ قیام پاکستان کے مقاصد کو متنازعہ بنانے کی بجائے اتفاق رائے پیداکرکے یک جان ہوجانا لازم ہے۔
    l    اتفاق رائے پید ا کرکے زوال کے اسباب جاننے کے لیے تحقیق کریں ، ٹاسک فورسز بنائیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں غلام ذہن اور مغلوب جذبات و احساسات کسی انقلابی راستہ کی کوئی تدبیر نہیں سجھا سکتے صرف خود احتسابی ،اپنی غلطیوں سے رجوع کرکے ہی مسئلے کا پائیدار حل ہے۔ باہر کے دشمنوں سے لڑنے سے قبل ہمیں اپنے اندر کے دشمن سے لڑناہوگا۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ آج ہم 22کروڑ آبادی ہونے کے باوجود سیلاب کے لائے ہوئے جھاگ کی طرح بے وزن اور بے وقعت کیوں ہوگئے ہیں ،ملکی وسائل ،صلاحیتیں اور ہنر و محنت حقیقت ہیں لیکن یہ سب افادیت کھو رہے ہیں اس کے اسباب کاازالہ ہی مسائل کا حل ہے۔
    l    حکومت ،ادارے ،گروہ ،افراد اپنے اپنے دائروں میںہر طرح کی خودمختار اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ہر ایک کی نظردوسروں کی غلطی پر ہوتی ہے۔ خودجس قدر چاہے لاقانونیت کرے وہ اپنے لیے ہر طرح کاتحفظ اور استثناء چاہتاہے ،قانون کانفاذ کمزور پر نافذ ہو۔طاقت ور کو کچھ نہ ہو،یہ رویہ بدلناہوگا۔عدلیہ کی آزادی، انصاف کو یقینی بنانے کے لیے فیصلوں کو تسلیم کرنے کی روش اختیار کرنا ہوگی ۔ تاکہ قانون او ر انصاف سب کے لیے ایک جیسا ہو۔
    l    سول ،ملٹری اور ریاستی اداروں کے تعلقات ترقی ، تعمیر اور استحکام کے لیے ناگزیر ہیں ۔ سیاسی جمہوری قوتیںملکی اقتدار کے لیے اپنی اہلیت، امانت اوردیانت  ثابت کریں ۔اپنے آپ کو محض حصول اقتدار کے مفادات کی خاطر ، چاپلوس اور نااہل گروہوں کے گرداب میں پھنسنے سے بچائیں۔ آئین ،قانون ، پارلیمنٹ ریاستی اداروں کے دائرہ کار متعین ہیں لیکن یہ عجب تماشہ ہے مقتدر طبقے کرپشن کریں ، عوام کے خون پسینے کی کمائی پر لوٹ مار کریں ، اقتدارکے مزے پاکستان میں لوٹیں لیکن مال و دولت ،کاروباراپنی اولادوں کے نام بیرون ملک رکھیں، معاشرے میں ٹھہرائو اور استحکام محض جمہوری اقتدار کے کوڑے سے نہیں آسکتا۔ اس کے لیے رویے اور اسلوب یکسر بدلنے ہوں گے۔
    l    جمہوریت کی بنیادی اکائی عوام ہیں ۔تعمیر واستحکام عوام کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔عوام تعلیم، صحت ، باعزت روزگار ،اپنے بچوں کا تحفظ چاہتے ہیں ۔قومی وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو،خصوصاً پسماندہ اورمجبور وبے کس طبقات اپنے حقوق کاتحفظ چاہتے ہیں۔ خواتین ،نوجوان آبادی کا دو تہائی ہیں ۔ لیکن محرومیوں کاشکار ہیں۔ عوام کے معاشی مسائل کے حل کے لیے برابری اور انصاف کی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی وگرنہ بے یقینی ، عدم اطمینان اور تباہی وبربادی کے دروازے کھلے رہیں گے۔
    l    داخلہ او خارجہ محاذ پر پالیسی ساز ی عوامی خواہشات کے مطابق آزاد ،باوقار ،خودارقوم کی حیثیت سے بنائی جائے لیکن اگر قومی اقتصادی خودمختاری کی بجائے کشکول اٹھانے ،بھیک مانگنے ، قرضوں پر مٹھی بھر مراعات یافتہ طبقہ اللے تللے کرے تو داخلہ وخارجہ حکمت عملی باوقار نہیں بن سکتی۔ خودانحصاری ،اپنے آپ پر اعتماد اور اپنی قوم کے نوجوانوں ،تاجر و صنعت کاروں ،کسانوں مزدوروں ،طلبہ ،اساتذہ ، ہنر مندوں اور خواتین کی صلاحیتوں پر اعتماد کرناہوگا، بیرون ملک پاکستانیوں کے متزلزل ہوتے اعتماد کو بحال کرناہوگا ۔ تعمیر و استحکام او ر خوشحالی کا یہ ہی پائیدار اور مضبوط راستہ ہے۔
    l    70سال کی تاریخ کا یہ اہم واقعہ ہے کہ مقتدرحکمران خاندان کا پانامہ لیکس اور کرپشن پر احتساب کا عمل جاری ہے لیکن احتساب کا تقاضا ہے کہ کرپشن میں ملوث سب افراد کا محاسبہ ہو وگرنہ کرپٹ مافیا انتقامی اور امتیازی کاروائی کا ڈھنڈورا پیٹ کر احتساب کے لیے پیش قدمی روک سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے لیے پوری قوم کی طرف سے داد رسی کابڑا مقدمہ دائر ہوچکاہے۔
    l    یہ امر بالکل عیاں ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں آئین ، پارلیمانی جمہوریت اور نظریہ پاکستان ہی اصل طاقت اورقوت ہے۔ مارشل لاء ، آئین سے بالا اقدامات مسائل کاحل نہیں۔ جمہوری عمل محض انتخابا ت کے انعقاد سے مستحکم نہیں ہوسکتا صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابی نظام ہی عوامی اعتماد بحال کرسکتا ہے ۔ انتخابات تو ہوں لیکن مرضی کے نتائج کے لیے ہر غیر جمہوری حربہ استعمال ہوتو یہ تعمیر اور استحکام کے لیے زہر قاتل ہے۔
    l    تعمیر و استحکام پاکستان کاتقاضا ہے کہ مضبوط نظام کے ساتھ’’ احتساب سب کا‘‘ہو۔ مقتدر طبقے انسانوں کو انسان تسلیم کریں ،انسانی اقدار کو فروغ دیاجائے ،غریب اور امیرکے بڑھتے فاصلے ختم کیے جائیں۔ پاکستان میں ہر فرد کو عزت کامقام اور جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایاجائے۔ باوسائل ،بااختیار ،مقتدر حلقے اپنے آپ کو قانون ، امانت و دیانت کاپابند بنائیں گے تو اعتماد ویقین کا ماحول پیداہوگا محض جھوٹے دعوے ،وقتی نمائشی اقدامات تعمیر واستحکام کاباعث نہیں بن سکتے ۔
    l…l…l

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس