Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

جماعت اسلامی کا یوم تاسیس

  1.                 26اگست2017ء کو بیسویں صدی کے عظیم مفکر سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کا لگایا ہوا پودا اپنی عمر کے 76بر س پورے کر رہاہے۔یہ موقع تحریک کے تمام قائدین اور کارکنان کے لئے باعث مسرت اور سکوں کاباعث ہے۔جماعت اسلامی پاکستان متحرک اور فعال تحریک کا نام ہے۔ جمود کے نام سے یہ آشنا نہیں ہے، جہاں اس کی قیادت مسلسل متحرک و فعال رہتی ہے وہیں جماعت اسلامی کے کارکنان کوا سلامی انقلاب کے غلبے کی جدوجہد میں ہمہ وقت مصروف رکھنے اور ان کی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے لئے اجتماعات، دروس قرآن و حدیث اور شب بیداریاں ہماری تحریک کا وطیرہ ہیں۔جماعت اسلامی کی دعوت، اﷲ کی بندگی اور بندوں کو بندوں کے ظلم سے نجات دلا کر اسلام کے نظام عدل و انصاف کو قائم کرنے کی دعوت ہے۔

                    جماعت اسلامی کے قیام کا بنیادی مقصد یہ تھاکہ امت مسلمہ کو انہی مقاصد کے لیے دوبارہ منظم اور متحد کیا جائے جن مقاصد کی خاطر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اللہ کے حکم کے مطابق کھڑا کیا تھا اور اس جدوجہد میں وہی طریق کار اختیار کیا جائے جس طریق کار کے مطابق حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قائم اور منظم کیا تھا ۔

                    قرآن کریم کے مطابق انسان کا بنیادی مقصد حیات اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اس کی رضا کی طلب ہے جس کے نتیجے میں اسے آخرت کی ابدی زندگی میں راحت اور فلاح ملے گی اور اللہ کو راضی کرنے کا راستہ وہی ہے جس کی نشاندہی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے اور جس کا نمونہ آپ ؐ نے اپنی حیات طیبہ سے عملاً پیش کیاہے۔

                    حضور نبی کریم ؐ نے تمام انسانوں کو اللہ کی طرف بلایا ۔ جنہوں نے آپؐ کی دعوت قبول کی ان کی سیرت سازی کی ، ان کا تزکیہ کیا ، انہیں کتاب و سنت کی تعلیم دی اور انہیں ایک منظم امت میں ڈھال لیا جس میں سمع و طاعت اور مشاورت کا نظام قائم تھا ۔ انہوں نے اس پوری امت کو اللہ کے راستے میں جدوجہد کے راستے پر ڈال دیا تاکہ اللہ کا کلمہ سربلند ہو ۔ انہوں نے ایک اسلامی حکومت اور ایک اسلامی معاشرہ قائم کیا ۔

                    بعینہ یہی طریق کار جماعت اسلامی کے بانی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ نے قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی اور اس وقت کے بعض جید علمائے کرام کے مشورے سے اختیار کیا ۔

                    مولانا مودودی ؒ نے مسلمانوں کو دعوت دی کہ اس مسنون طریق کار کے مطابق امت کو دوبارہ متحد و منظم کرنے کے لیے جماعت اسلامی میں شامل ہو جائیں لیکن انہوں نے یہ بھی احتیاط کی کہ جماعت اسلامی کوئی فرقہ نہ بن جائے ۔ اس لیے انہو ںنے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ جو لوگ ان کا ساتھ نہیں دیں گے وہ سیدھے راستے سے ہٹ جائیں گے بلکہ انہوں نے واضح کر دیا کہ بحیثیت مسلمان اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے جدوجہد کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے ۔ اگر ہمارے اوپر اعتماد نہیں ہے تو جس پر اعتماد ہے ان کی معیت میں یہ فریضہ سر انجام دیں لیکن امت کے بنیادی مقصد سے لاتعلق نہ رہیں ۔ الحمدللہ مولانا مودودی ؒ نے اپنے وقت میں مسلمانوں کو جس بنیادی مقصد کی طرف متوجہ کیا ، آج پوری دنیا میں ہر جگہ اسی مقصد کے لیے مسلمان منظم ہو رہے ہیں ۔ ہر علاقے اور ہر ملک میں مسلمانوں کی بڑی تعداد اس تحریک سے وابستہ ہے ۔ بھارت ، بنگلہ دیش ، سری لنکا اور پاکستان میں یہ کام جماعت اسلامی ہی کے نام سے جاری ہے ۔ دوسرے ممالک میں مختلف ناموں سے یہ کام ہو رہاہے ۔ ہر جگہ اپنے اپنے ملک کے حالات کے مطابق علیحدہ تنظیم قائم کی گئی ہے اور اپنے حالات کے مطابق حکمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی رضا کا یہ کام جاری ہے ۔

                    جماعت اسلامی ایک علمی ، فکری اور انقلابی تحریک ہے ۔ ذہنوں کو جِلا بخشنے والا اس کا فکر انگیز لٹریچر آج بھی دنیا کی ہر زبان میں موجود ہے اور چار دانگ ِعالم میں اس کا چرچا ہے ۔ ہر جگہ اسلامی ، اور انقلابی تحریکوں کی یہ جان ہے ۔ آج دنیا سمٹ گئی ہے اور ایک ’’ گلوبل ویلج ‘‘ بن گئی ہے ۔ امریکہ اور اس کے حواری گلوبلائزیشن کے نام پر اپنا ’’ نیا عالمی نظام ‘‘ بزور طاقت اس گلوبل ویلج پر نافذ کرنا چاہتے ہیں جبکہ ہم اپنے ایمان اور اللہ تبارک و تعالیٰ سے اپنے عہد و پیمان کی بنیاد پر پابند ہیں کہ پوری دنیا میں کلمہ ٔ طیبہ کی حکمرانی قائم کریں۔ مغرب کے پاس عقیدہ ہے نہ پیغام و دعوت ، اس لیے وہ تباہی پھیلانے والے آلات کے ذریعے دنیا فتح کرنا چاہتا ہے جبکہ امت مسلمہ عالمی ، آفاقی اور عالمگیر پیغام کی بنیاد پر دلوں کو جیتنے اور ذہنوں کو مسخر کرنے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے اور امریکی استعمار کے استحصالی اور ظالمانہ نظام کا مقابلہ نہتے اور بے سرو سامانی کے عالم میں اللہ کی نصرت و تائید کے سہارے کر رہی ہے ۔#

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس