Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

26 اگست ، جماعت اسلامی کا یومِ تاسیس

  1.                 جماعت اسلامی کا قیام 26 اگست 1941 ء کو اسلامیہ پارک پونچھ روڈ لاہور میں مستری محمد عبداللہ کی کوٹھی جس میں مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ رہائش پذیر تھے ،عمل میں آیا ۔75 افراد کی مختصر جمعیت سے آغاز کرنے والی جماعت اسلامی کے آج 37ہزار سے زائد ارکان اور لاکھوں کارکنان ہیں جو بلاشبہ اپنا سب کچھ اصلاح معاشرہ ، خدمت انسانی اور غلبہ دین کے لیے قربان کرنے کے جذبے سے سرشار ہیں ۔ ’’الجہاد فی الاسلام ‘‘اور ماہنامہ’’ ترجمان القرآن ‘‘کے مختصر لٹریچر سے اپنا سفر شروع کرنے والی جماعت اسلامی آج سید مودودی کی شہرہ آفاق تفسیر’’ تفہیم القرآن‘‘اور ’’تفہیم الاحادیث ‘‘ سمیت ہزاروں کتب کا ذخیرہ رکھتی ہے اور اس لٹریچر کا دنیا کی 46 سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکاہے ۔ ابھی حال ہی میں قرآن کریم کی تفسیر تفہیم القرآن کا سری لنکن زبان ’’سنہالہ ‘‘ میں ترجمہ ہواہے ۔ دنیا کی ہر بڑی لائبریری میں یہ لٹریچر موجود ہے ۔ سید مودودیؒ پر پی ایچ ڈی کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں میں ہے ۔ برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض سے اسلامیہ پارک لاہور میں آنے والے 75 افراد  ہندوستان بھر میں اپنے علمی مرتبہ کے لحاظ سے معروف تھے، اکثریت کا غلبہ دین کی طرف رجحان ترجمان القرآن کے مطالعہ سے ہی ہواتھا ۔ یہ سب لوگ اس وقت ہندوستان میں جاری سیاسی کشمکش کے پیش نظر مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ اور اسلام کے احیا کی تحریک کے لیے جمع ہوئے تھے جس کی دعوت ماہ صفر 1360 ھ اپریل 1941 ء کے ترجمان القرآن میں دی گئی تھی ۔ بے بسی اور بے حسی کی راکھ میں ابھی چند چنگاریاں موجود تھیں جنہوں نے امت کو تاریکیوں سے نکالنے کا بیڑا اٹھایا ۔ پرچہ چھپنے کے تھوڑے دنوں بعد ہی اطلاعات آنا شروع ہو گئیں کہ ملک میں ایسے آدمیوں کی ایک خاص تعداد ہے جو ’’ جماعت اسلامی ‘‘ کی تشکیل اورقیام اور بقا کے لیے جدوجہد پر آمادہ ہیں ۔ ایسے تمام لوگوں کو یکم شعبان 1360ھ 25 اگست 1941 ء کو لاہور میں جمع ہونے کی ہدایت کی گئی ۔ 28رجب سے ہی لوگ لاہور پہنچنا شروع ہو گئے ۔ یکم شعبان تک قریباً 60آدمی آ چکے تھے باقی سب لوگ بعد میں آئے ۔ پہلے اجتماع کے شرکاء کی تعداد 75 تھی (روداد جماعت اسلامی حصہ اول ) 2شعبان 26 اگست 1941 ء کو یہ اجتماع ترجمان القرآن کے دفتر میں صبح آٹھ بجے شروع ہوا ۔ سب لوگ فرش پر بیٹھے تھے مگر حاضرین کی خواہش اور ضرورت کے پیش نظر سید مودودیؒ کو کرسی پر بٹھایا گیا اور اجتماع کی کاروائی سید مودودیؒ کے طویل خطبہ سے شروع ہوئی جس میں انہوں نے موجودہ اسلامی تحریک کی تاریخ پر بہت ضروری اور مفید روشنی ڈالی ۔(روداد جماعت اسلامی حصہ اول )

    جماعت اسلامی کی وجہ تسمیہ  :۔

                    سید مودودی ؒ نے فرمایا کہ ہم جس جماعت کی تشکیل کرنے جارہے ہیں چونکہ اس کا عقیدہ ، نصب العین ، نظام جماعت اور طریق کار بلاکسی کمی بیشی کے وہی ہے جو اسلام کا ہمیشہ سے رہاہے تو اس کے لیے اسلامی جماعت کے سوا کوئی دوسرا نام بھی نہیں ہو سکتا ۔(روداد جماعت اسلامی حصہ اول )

    ترتیب دستور  :۔

                    تمہیدی تقریر کے بعد سید مودودی ؒ  نے دستور جماعت کا مسودہ شرکا ئے اجتماع کوپڑھ کر سنایا جس کی طبع شدہ کاپیاں اجتماع میں آنے والوں کو دو روز قبل ہی دے دی گئی تھیں تاکہ ہر آدمی اس کو اچھی طرح دیکھ لے اور اجتماع میں مناسب رائے دے سکے ۔ دستور کا ایک ایک لفظ پڑھا گیااور اس پر غور و خوض ہوا۔ سارا دن بحث و تمحیص ہوتی رہی اور آخر نمازمغرب سے کچھ دیر قبل چند ترامیم و اضافوں کے ساتھ دستور پورے کا پورا بالاتفاق پاس ہو گیا۔

    تشکیل جماعت : ۔

                    دستور کی منظوری پر سب سے پہلے سید مودودی ؒاٹھے اور کلمہ شہادت کا اعادہ کیا اور جماعت اسلامی میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ اس کے بعد محمد منظور نعمانی کھڑے ہوئے اور تجدید ایمان کے بعد جماعت میں شمولیت اختیار کی ۔ اس کے بعد باری باری حاضرین اٹھتے رہے اور کلمہ شہادت کی ادائیگی کے بعد جماعت اسلامی میں شریک ہوتے رہے ۔ یہ بڑا رقت آمیز منظر تھا قربیاً ہر شخص کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ۔ داڑھیاں آنسوئوں سے تر تھیں ۔ ہر شخص کلمہ شہادت کی ادائیگی کے وقت احساس ذمہ داری سے کانپ رہاتھا اور اس پر روتے روتے رقت طاری ہو جاتی تھی ۔ جب سب لوگ کلمہ شہادت ادا کر چکے تو سید مودودیؒ دوبارہ اٹھے اور جماعت کی حیثیت اس کے منشا اور نصب العین پر دوبارہ روشنی ڈالنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے استقامت اور استقلال اور اپنی کتاب و رسول ؐ کی سنت کے مطابق چلنے اور اس راستے پر قائم رہنے کی توفیق مانگی ۔ بعدازاں مولانا منظور احمد نعمانی ؒ نے بھی مختصر دعا کی ۔ کتنا مقدس اور بابرکت تھا وہ لمحہ جب ان نفوس قدسیہ نے اسلام کے دوبارہ احیا کی کوششوں کا اپنے مالک سے عہد باندھا اور اس عہد کو نبھانے کے لیے اپنی زندگیاں صرف کر دیں ۔ جنہوں نے کبھی پیچھے مڑ کر سودو زیاں کا حساب نہیں لگایا بلکہ اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک اللہ کے دین کے غلبے کے مقدس مشن پر کاربند رہے اور لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو گمراہی کے گھپ اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشن راہوں پر ڈال دیا ۔ بلاشبہ وہ پاکیزہ ہستیاں لاکھوں انسانوں کی اپنے خالق و مالک سے دوری کو اس سے وفا شعاری اور قربت میں بدلنے کا ذریعہ بنیں ۔ جنوبی ایشیا کے تمام ممالک میں جماعت اسلامی قائم ہے ۔ بھارت ، بنگلہ دیش میں پاکستان سے زیادہ تعداد میں کارکنان ہیں ۔ سری لنکا ، بنگال اور کشمیر میںبھی جماعت اسلامی موجود ہے ۔

                    جرمنی کی ایک این جی او نے 11 سال قبل دنیا بھر کے بڑے بڑے ماہرین تعلیم ، پروفیسرز اور انجینئرز سے ایک سروے کیااور پوچھا کہ 20 ویں صدی کے دوران دنیا میں سب سے زیادہ انسانی تہذیب و تمدن پر اثر انداز ہونے والی آٹھ شخصیات کون کون سی ہیں ۔ منتخب کی گئی شخصیات میں صرف ایک مسلمان شخصیت کا نام تھا اور وہ تھے سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ ، بانی ٔ جماعت اسلامی ۔

                    1974 ء میں رابطہ عالم اسلامی کے نمائندہ اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعے متفقہ طور پر سید مودودی ؒ کو امیر المومنین کا خطاب دیاگیا لیکن انہوں نے معذرت کرتے ہوئے فرمایا کہ امیر المومنین کے لقب کے حق دار خلیفہ ٔ وقت ہی ہو سکتے ہیں جو بدقسمتی سے خلافت کا خاتمہ ہونے کے باعث موجود نہیں ہیں لہٰذا میں خود کو اس منصب جلیلہ کے قابل نہیں سمجھتا۔

                     سید مودودیؒ کو اسی تاسیسی اجتماع میں جماعت اسلامی کا پہلا امیر منتخب کر لیا گیا جنہوں نے (قیم) سیکرٹری جنرل کے لیے میاں طفیل محمد ؒ کا تقرر کیا ۔ سید مودودیؒ کے انتقال کے بعد میاں طفیل محمد ؒامیر جماعت اسلامی منتخب ہوئے اور انہوں نے قاضی حسین احمدؒ کو اپنا سیکرٹری جنرل بنایا ۔ میاں طفیل محمد ؒکی خرابی ٔ صحت کے باعث قاضی حسین احمد ؒکو امیر جماعت اسلامی منتخب کیا گیا ۔ 22 سال سے زائد عرصہ تک انہوں نے اس

    ذمہ داری کو احسن انداز میں نبھاتے ہوئے جماعت اسلامی کو ایک موثر قوت بنا دیا۔ انہوں نے اپنے دور امارت میں عام آدمی کو جماعت کے قریب لانے اور تنظیم کے اندر سمونے کے لیے 1997 ء میں ممبر سازی کے ذریعے قریباً پچاس لاکھ لوگوں کو جماعت اسلامی کا ممبر بنایا ۔ احتجاج میں دھرنے کو متعارف کرانے والے بھی قاضی حسین احمدؒ ہیں جنہوں نے24جون 1996 ء کو اسلام آباد میں بے نظیر حکومت کی کرپشن کے خلاف پہلا دھرنا دیا توہر کوئی پوچھ رہاتھا ’’ یہ دھرنا کیا ہوتا ہے؟ ‘‘ جس کے نتیجے میں بے نظیر کی حکومت ختم ہو گئی جبکہ آج ہر سیاسی جماعت اور ’’ دھرنا مخالف‘‘ این جی اوز بھی اپنے مطالبات کے حق میں دھرنا دیتی ہیں ۔ جماعت اسلامی نے پاکستان قومی اتحاد اور اسلامی جمہوری اتحاد میں موثر کردار ادا کیا۔2002 ء میں دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے (متحدہ مجلس عمل ) میں جماعت اسلامی نے موثر کردار ادا کیا ۔ قاضی حسین احمد ایم ایم اے کے صدر بھی رہے ۔ قاضی حسین احمد نے خرابی صحت کی وجہ سے جب امارت کی ذمہ داری اٹھانے سے معذرت کر لی تو ان کے ساتھ سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے کام کرنے والے سید منور حسن کے کندھوں پرامارت کی گراں بار ذمہ داری آ ن پڑی ۔ انہوں نے اپنے ساتھ لیاقت بلوچ کو بطور سیکرٹری جنرل لیا ۔ سید منور حسن اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ بھی رہے ہیں ۔ ان کے ساتھ کام کرنے والے قریباً تمام ذمہ داران اسلامی جمعیت طلبہ کے سابقین تھے ۔ سید منور حسن کی پانچ سالہ مدت امارت کے بعد ارکان جماعت نے دیر کے بلند و بالا پہاڑوں میں گھرے ہوئے چھوٹے سے گائوں ثمر باغ سے تعلق رکھنے والے درویش صفت سراج الحق کو اپنا امیر منتخب کرلیا ۔سراج الحق بھی اسلامی جمعیت طلبہ کے ناظم اعلیٰ رہے ہیں ۔انہوں نے 9اپریل 2014کو امارت کی گراں بار ذمہ داری کا حلف اٹھایااور لیاقت بلوچ کو اپنے ساتھ سیکرٹری جنرل لیا ۔

                    جماعت اسلامی کو قیام پاکستان کی مخالف جماعت قرا ردینے والے قیام پاکستان کی روشن تاریخ کو مسخ اور اپنی لاعلمی و تعصب کا اظہار کرتے ہیں ۔ سید مودودی ؒکے تحریر کردہ کتابچے ’’مسئلہ قومیت ‘‘کی بنیاد پر دو قومی نظریہ کو فروغ ملا جو بعد میں قیام پاکستان کی بنیاد بنا۔

                    ماہ اگست مسلمانان برصغیر کے لیے خصوصی اہمیت کا حامل ہے ۔ خاص طور پر اہل پاکستان کے لیے تو یہ مہینہ انگریزوں کے ساتھ ساتھ ہندوئوں کی غلامی سے نجات کا پیغام لے کر آیا اور 14 اگست 1947 ء کو دنیا کے نقشے پر پاکستان کے نام سے مدینہ کی ریاست کے بعد خاص کلمہ ٔ توحید کی بنیاد پر ایک آزاد اور خود مختار مسلم ریاست وجودمیں آگئی۔

                    جماعت اسلامی کو پاکستان کی واحد سیاسی جماعت تسلیم کیا جاتاہے جو جمہوری تقاضوں پر پورا اترتی ہے اور جس پر کسی خاص گروہ یا خاندان کا قبضہ نہیں ۔ جماعت اسلامی کے منظم قوت ہونے کا اقرار اس کے بدترین مخالف بھی کرتے ہیں۔

                    جماعت اسلامی نے قیام پاکستان کے وقت مہاجرین کی دیکھ بھال سے لے کر تحریک مطالبہ اسلامی ، تحریک ختم نبوت ، بنگلہ دیش نامنظور تحریک ، افغانستان پر روسی اور امریکی جارحیت کے خلاف اور جہاد فلسطین و کشمیر کے لیے شاندار کردار ادا کیاہے ۔ انسانی فلاح و بہبود کے کاموں میں ’’الخدمت فائونڈیشن ‘‘ جانی پہچانی جاتی ہے ۔#

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس