Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اقبالؒ کا خواب اور قائدؒ کی تعبیر! [یوم پاکستان کے تناظر میں]

  1.  

    پاکستان اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ جو لوگ اس کی قدر نہیں کرتے وہ انتہائی ناشکرے ہیں۔ اللہ نے ہمیں اپنی قدرتِ خاص سے یہ وطن عطا کیا تھا۔ انگریز بھی ہمارے مخالف تھے اور متعصب ہندو تو ہمارے ازلی اور ابدی دشمن ہیں۔ سکھ اقلیت کو بھی پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف اس قدر مشتعل کردیا گیا تھا کہ ہجرت کے وقت مسلمانوں کا سب سے زیادہ خون سکھوں ہی نے بہایا تھا۔ اس سارے تناظر میں پاک وطن کا قیام اللہ تعالیٰ کا خاص عطیہ تھا۔ اے کاش ہم ایک شکرگزار قوم بن سکتے۔ آج پاکستان کے قیام کوستر سال پورے ہوگئے ہیں ۔ ستر سالوں میں قومیں کہیں سے کہیں پہنچ گئیں، مگر ہم آج بھی مشکلات کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آزاد وزندہ قومیں اپنے نظریات اور اپنے ورثے کی حفاظت کرتی ہیں اور ان پر فخر محسوس کرتی ہیں۔

    ہمارا المیہ ہے کہ ہم اپنے نظریات کی خود ہی دھجیاں اڑا دیتے ہیں۔ ہمارے حکمران اپنی قومی زبان سے آنے والی نسلوں کو محروم کردینے کی پالیسی اپنائے ہوئے ہیں۔ اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے ملک میں اسلامی نظام کو آج تک نہیں آنے دیاگیا۔ پاکستان کا قیام دو قومی نظریے کا مرہون منت ہے۔ مسلمانوں نے الگ خطہ کیوں حاصل کیا تھا، قائداعظمؒ کی تحریروں اور تقریروں میں غیرمبہم انداز میں اس کا جواب ملتا ہے۔ انھوں نے بارہا یہ کہا کہ ہمارا دستور چودہ سو سال پہلے قرآن وسنت کی صورت میں بن چکا ہے۔ ہم ایک ایسا خطہ چاہتے ہیں جو آج کے دور میں اسلامی نظام کی مثال پیش کرے۔ ریاست پاکستان کا حصول قائد کے نزدیک اسلامی نظام زندگی کے لیے ایک قومی فرض اور دینی تقاضا تھا۔ اگر قائداعظمؒ کو اللہ تعالیٰ کچھ مہلت دیتا تو اس ملک کا حال یہ نہ ہوتا جو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔

    قیام پاکستان کے وقت دوقومی نظریہ کے حق میں جس شخص نے سب سے زیادہ کام کیا وہ سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ تھے۔ اس زمانے میں ان کے مضامین ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ‘‘ کے عنوان سے ترجمان میں چھپتے تھے اور مسلم لیگ کا شعبہ نشرواشاعت انھیں کتابچوں کی صورت میں پورے ملک میں تقسیم کرتا تھا۔ ان مضامین میں سیدمودودیؒ نے تاریخی وعمرانی، دینی ومذہبی، معاشرتی وسماجی، تمدنی وثقافتی، سیاسی ومعاشی غرض ہر میدان میں مسلمانوں کا غیرمسلموں سے فرق واضح کیا۔ ان کے دلائل میں منطق بھی تھی اور تاریخ انسانی سے بھرپور استدلال بھی تھا۔ انھوں نے دنیا بھر کی اقوام وممالک اور مذاہب ونظریات سے مثالیں دے کر ثابت کیا کہ مطالبۂ پاکستان مبنی برحق ہے اور اس کی مخالفت امت مسلمہ کے مستقبل کو گروی رکھ دینے کے مترادف ہے۔

    انھی مضامین میں آگے چل کر سیدمودودیؒ نے اس بات کو بیان کیا تھا کہ ایک اسلامی ریاست کو چلانے کے لیے جس ٹیم کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے مسلم لیگ کو وہ میسر نہیں۔ بانیٔ پاکستان حضرت قائداعظمؒ کو خود بھی اس بات کا احساس تھا اور خود انھوں نے کئی بار اس کا اظہار کیا۔ سیدمودودیؒ کی اس رائے کو نہایت بے انصافی اور سینہ زوری سے پاکستان کی مخالفت قرار دے دیا گیا۔ حالانکہ یہ مستقبل میں پیش آنے والے مسائل ومشکلات کی نشان دہی تھی۔ قیام پاکستان کی جدوجہد میں فکری لحاظ سے مولانا مودودی کی تحریروں میں دوقومی نظریے کا اثبات اور اکھنڈ بھارت کے تصور کا بطلان بہت بڑی فکری ونظری خدمت ہے۔ جن علاقوں میں ریفرنڈم ہوا تھا ان علاقوں میں جماعت اسلامی کے ارکان ووابستگان نے پاکستان کے حق میں ووٹ دینے کے لیے بھرپور مہم چلائی۔ صوبہ سرحد اس کی بہترین مثال ہے۔ قیام پاکستان کے بعد بھی قائداعظم ؒ نے مولانا مودودیؒ کی پیش کردہ اسلامی فکر کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ قائداعظمؒ جوہر قابل کو پہچانتے بھی تھے اور اس کے قدردان بھی تھے۔ مولانا مودودیؒ کی نشری تقریریں جو ریڈیو پاکستان سے نشر ہوئیں، باقاعدہ چھپی ہوئی موجود ہیں۔ یہ سب قائداعظم کی زندگی میں کی گئی تھیں۔ جونہی قائداعظم اس دنیاسے (ماہِ ستمبر1948ء) رخصت ہوئے سیدمودودیؒ کو پس دیوارِ زنداں (اکتوبر1948ء) دھکیل دیا گیا۔

    پاکستان اگر قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کے تصورات کے مطابق تعمیر کیا جاتا تو نہ تو یہ دولخت ہوتا اور نہ ہی آج بھانت بھانت کی بولیاں سننے کو ملتیں۔ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ اسے 1973ء میں ایک متفقہ دستور مل گیا۔ اس دستور کے بعد بھی دو مرتبہ ملک میں مارشل لا لگا، لیکن اللہ کا شکر ہے کہ یہ دستور ان صدموں کو برداشت کرگیا اور اب تک موجود ہے۔ اس دستور کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔ اس وقت تو بالخصوص دستور کی دو اہم دفعات 62 اور 63 مفاد پرست حکمرانوں اور ان کے حواریوں کو بری طرح کھَلتی ہیں اور وہ امانت ودیانت اور سچائی وصداقت کے اصولوں پر مشتمل دفعات کو دستور سے خارج کرنے کے لیے میدان میں اتر آئے ہیں۔ ان دفعات کا دستور سے اخراج ایک عظیم قومی المیے سے کم نہیں ہوگا۔ پوری قوم کے تمام باشعور طبقوں کی ذمہ داری ہے کہ ان سازشوں کو ناکام بنائیں۔ ہمارا ازلی دشمن بھارت ہمارے خلاف پوری طرح اپنی خباثت اور جارحیت کا ارتکاب کررہا ہے۔ ملک کے اندر بھی افراتفری کا عالم ہے۔ خدانخواستہ اس دستور کو کچھ ہوا تو پھر کوئی متفقہ دستاویز بنانا ناممکن ہوجائے گا۔ تمام سیاسی جماعتیں اس دستور کی وفاداری کا دم بھرتی ہیں۔ اس دستور میں طے کیے گئے امور پر عمل درآمد شروع ہوجائے تو بہت سی مشکلات حل ہوسکتی ہیں۔

    دستور پاکستان قرآن وسنت کو بالادست قانون قرار دیتا ہے۔ اللہ کی حاکمیت اعلیٰ کا اقرار کرتا ہے۔ قومی زبان اردو کو قرار دیتاہے اور اس کی تنفیذ کا لائحۂ عمل دیتا ہے۔ سود کو ختم کرنے کا باقاعدہ ایک فریم ورک اس میں موجود ہے۔ وہ مدت جس کے اندر اندر سود ختم کرنا تھا وہ بھی گزر چکی ہے، مگر آج تک ہم سود کی لعنت سے چھٹکارا نہ پاسکے۔ دستور کی دفعہ 62،63 منتخب نمایندوں کے لیے اسلامی ضابطوں پر مشتمل ہے۔ اس کے خلاف گہری سازشیں ہورہی ہیں۔ خدا کے لیے اگر اس ملک کی بھلائی اور آنے والی نسلوں کی فلاح مطلوب ہے تو حکومت دستور کی روح کے مطابق اپنا قبلہ متعین کرے۔ تمام دینی وسیاسی جماعتوں، عدلیہ  اور فوج ، اہلِ علم ودانش اور ذرائع ابلاغ سبھی کو اپنے ملکی دستور کا احترام کرنا چاہیے۔

    اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اس متفقہ آئین کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ایک متفقہ موقف پر اکٹھے ہوجانا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر یہ قومی سوچ پروان چڑھ جائے تو یومِ پاکستان منانے کا لطف بھی دوبالا ہوجائے۔ اسی کے نتیجے میں اندرونی وبیرونی تمام فتنوں کا سدباب ہوسکتا ہے اور پاکستان ایک ناقابل شکست ملک کے طو رپر دنیا میں سرخرو وسربلند ہوسکتا ہے۔ ایٹمی صلاحیت حاصل کرنا بہت بڑا اور تاریخی کارنامہ ہے، مگر محض ایٹمی قوت بن جانے سے بات نہیں بنتی۔ قومیں اپنے اساسی نظریات کی حفاظت کرکے عزت و احترام پاتی ہیں۔ ’’ہم ایک زندہ قوم ہیں‘‘ کا ترانہ بڑا ایمان افروز ہے، مگر ہمیں زندہ قوم بننے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ روایتی انداز میں یوم پاکستان منانے کی بجائے آئیے عہد کریں کہ ہم ایک زندہ قوم بن کر دکھائیں گے۔ اس کے لیے قرآن وسنت اور دستور پاکستان ہی ہمارے درمیان نقطۂ اتحاد بن سکتا ہے۔

     

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس