Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

14اگست ۔۔۔۔ایک عہدکی تکمیل کادن!

  1.                       
        قوم کو پاکستان کی اساس سے جوڑنا اور نئی نسل کو نظریہ پاکستان سے روشناس کروانادینی و سیاسی قیادت کی اولین ذمہ داری ہے۔ پاکستان مدینہ منورہ کے بعد کرہ ارض پر اسلام کے آفاقی و غیر فانی نظریہ لا الہ الا اللہ کی بنیاد پر وجود میں آنے والی پہلی مملکت خدا داد ہے ، پاکستان کا قیام بلاشبہ بیسویں صدی کا عظیم معجزہ ہے ،اس عطیہ خداوندی کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے ۔قومیں اپنے نظریات کی بنا پر زندہ رہتی ہیں ،اپنے اسلاف کے طے کردہ نشانات منزل کو گم کردینے اور اپنے نظریات کو فراموش کر بیٹھنے والوں کا وجود کائنات زیادہ دیربرداشت نہیں کرتی اور وہ حرف غلط کی طرح مٹا دیئے جاتے ہیں ۔پاکستا ن اپنے نظریہ کے بغیر ایسے ہی ہے جیسے روح کے بغیر جسم !قومی سوچ اور حب الوطنی کے جذ بات کو پروان چڑھانے میں 14اگست کا دن بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ آئندہ نسلوں کو قیام پاکستان کے اعلیٰ و ارفع مقاصد سے ہم آہنگ کرنے اور مملکت خداد کوایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم دامے درمے سخنے تحریک پاکستان اور پاکستان کے حصول کیلئے دی گئی بے مثال قربانیوں کی یاد کو زندہ و جاوید رکھیں۔ حکیم الامت علامہ محمد اقبال ؒ نے جس پاکستان کا خواب دیکھا ، بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے جس خواب کی تعبیرحاصل کرنے کیلئے دن رات ایک کیا اور پھر برصغیر کے لاکھوں مسلمانوں نے اپنا خون پیش کرکے جوزمین کاٹکڑاحاصل کیا تھا کیا یہ وہی پاکستان ہے!کیا یہ وہی پاک سرزمین ہے جس کی سرحد پر پہنچتے ہی لٹے پٹے اور زخموں سے چور مہاجرین وارفتگی کے عالم میں زمین پر گر کر اسے چومتے اور اس کی مٹی کو مٹھیوں میں بھر کر اپنی آنکھوں سے لگاتے، اپنے معصوم بچوں کے نیزوں پر جھولتے لاشے اور اپنی عزتوں کو بچانے کیلئے دریائوں اور کنوئوں میں چھلانگیں لگاتی بہنیں اوربیٹیاں اور اپنے نوجوان بیٹوں کے خاک اور خون میں تڑپتے لاشے دیکھنے کے بعدجن میں زندہ رہنے کی خواہش دم توڑ چکی تھی اب انہیں زندگی پیاری لگ رہی تھی اور وہ بے ساختہ پکار اٹھتے کہ ہم نے بہت کچھ کھو کر بھی سب کچھ پالیا ہے ،پاکستان مل گیا ہے تو ہمیں اب اپنے پیاروں کے بچھڑنے ، گھروں کے اجڑنے اور بستیوں اور شہروں کے جلنے کا کوئی غم نہیں ۔   
          پاکستان کے قیام کا مقصد محض ایک ریاست کے حصول تک محدود نہیں تھا بلکہ بقول قائد اعظمؒ’’ ہمارے پیش نظر ایک ایسی آزاد اور خود مختارمملکت کا قیام ہے جس میں مسلمان اپنے دین کے اصولوں کے مطابق زندگی گزار سکیں ‘‘۔ بانئی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ؒ نے اپنے قریبا ً114خطابات اور تقریروں میں واشگاف الفاظ میںاس عزم کا اظہار کیا تھاکہ پاکستان کا آئین و دستور قرآن و سنت کے تابع ہوگا۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ پاکستان کا دستورکیسا ہوگا توانہوں نے فرمایاکہ ہمیں کسی نئے دستور اور آئین کی ضرورت نہیں ،ہمارا دستور وہی ہے جو قرآن کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے چودہ سو سال قبل ہمیں عطا کردیا تھا۔حضرت قائداعظم محمد علی جناح ؒ نے فرمایا تھا کہ ہم پاکستان محض ایک خطہ زمین کے لیے نہیں بلکہ اسلام کی تجربہ گاہ کے طور پر حاصل کرناچاہتے ہیں جہاں ہم اپنی زندگیاں قرآن و سنت کے مطابق گزار سکیں اور اسلام کو ایک نظام زندگی کے طور پر اپناسکیں۔ جب تک قوم بانیٔ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے فرمودات پر عمل پیرا ہوکر علامہ اقبال ؒ کے خواب کی تعبیر حاصل نہیں کر لیتی ، قیام پاکستان کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔
        دستور پاکستان میںعوام کو بنیادی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے اور پسماندہ اور محروم طبقوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے ،عام آدمی کے جائز مفادات کا تحفظ ،ہر شہری کی فلاح و بہبود اور ہر قسم کے استحصال کی بیخ کنی کے ساتھ ساتھ ریاست سے وفاداری کو بڑی اہمیت دی گئی ہے مگر قیام پاکستان کے ساتھ ہی ملک پر انگریز کا پروردہ وہی جاگیر دار طبقہ اقتدار پر قابض ہوگیا جس سے آزادی کیلئے لاکھوں مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا اور اسلامیان برصغیر نے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کی تھی ۔ملکی اقتدار پر مسلط اشرافیہ عوام کو غلام اور اپنا خدمت گزار بنا کر رکھنا چاہتی ہے ،اسمبلیوں میں بیٹھے ہوئے سیاسی وڈیرے اور جاگیر دار قانون کی حکمرانی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ان کی سیاست کا مرکز و محورہی اپنی ذات کو ہر قسم کی قانونی پابندیوں سے آزاد رکھنا ہے ۔ملک میں قانون کی بالادستی کا خواب اس وقت تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جب تک خود صاحب اقتدار طبقہ اس کی پابندی نہیں کرتا اور کوئی بھی ریاست اس وقت تک جمہوری کہلانے کی حق دار نہیں جب تک کہ جمہور کی مرضی کو فائق نہیں سمجھا جاتا۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو ایک فلاحی ریاست بنانے کیلئے ہمیں اس کے بنیادی مقاصد کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔پاکستان کی بنیاد لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ؐ ہے اور ملکی خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود اسی بنیاد سے وابستہ ہے ۔
        آج جب ہم دیکھتے ہیں کہ ملک کا وزیر اعظم کرپشن کے جرم میں نااہل ہوچکا ہے ،سیاسی پارٹیوں میں بڑے بڑے مجرموں نے پناہ لے رکھی ہے ،سیاسی جماعتیں پرائیویٹ لیمٹڈ کمپنیاں بن گئی ہیں ،جس جمہور اور جمہوریت نے پاکستان کو بنایا تھا وہ جمہوریت بچہ مجورا بن چکی ہے اور جمہورکی کوئی سننے والا نہیں ۔آج کل ایک نیا بیانیہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ ڈکٹیٹر شپ کے مقابلہ میں سول بالا دستی ناقابل فہم ہے ۔یہ بیانیہ وہ لوگ پیش کررہے ہیں جو خود اسٹیٹس کو کے ظلم و جبر پر مبنی نظام کی پیداوارہیں ۔مارشل لاء اور ڈکٹیٹر شپ نے ملک و قوم کے ستر سال ضائع کردیئے ہیں ،عوام کی حکمرانی کا خواب ابھی تک پورا نہیں ہوسکا اور آمریت کے سائے میں پلنے والی جمہوریت نے بھی ہمیشہ عوام کی امنگوں کا خون کیا ہے ۔انتخابات کے ذریعے وجود میں آنے والی خاندانی اور موروثی سیاسی جماعتوں نے جمہوریت کے نام پر بدترین آمریت مسلط کی۔یہ سیاسی پارٹیاں نہیں ،کلب ہیں جہاں وڈیروں اور جاگیرداروں نے پناہ لے رکھی ہے۔ان لٹیروں نے عوامی اور قومی خدمت کی بجائے قومی وسائل لوٹ کر بیرون ملک بڑی بڑی جائیدادیں بنائیں ۔ ملک سے کھربوں ڈالرز لوٹ کر سوئس بنکوں میں پہچائے ،ہم نے اس کرپشن کے خلاف پارلیمنٹ ،عدالت عالیہ اور عوام میں آواز بلند کی اورسب کے احتساب کا مطالبہ کیا حقیقت یہ ہے کہ آج تک حکمرانی کرنے والوں کی اکثریت کرپشن اور لوٹ کھسوٹ میں ملوث پائی گئی ،ہم نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ نواز شریف کے بعد پرویز مشرف اور زرداری حکومتوں کا بھی مکمل آڈٹ کرایا جائے اورانہیں بھی احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے ۔ہماری کرپشن فری پاکستان تحریک کرپشن کے خاتمہ اور قومی خزانہ لوٹنے والوں کے انجام تک جاری رہے گی۔ 
        ضرورت اس امر کی ہے کہ تحریک پاکستان کی طرز پر قوم’’ تحریک تکمیل پاکستان‘‘ کا آغازکردے تاکہ نظریہ پاکستان اور آئین پاکستان کو سبو تاژ کرنے کی سازشوں کو ناکام بنا یا جاسکے ۔کسی بھی مملکت کے نظام کو چلانے کیلئے آئین کی بالادستی اور حکمرانی انتہائی اہمیت رکھتی ہے ۔ایک بین الاقوامی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان قانون کی عمل داری کے معاملہ میں 102ملکوں میں سے 98ویں نمبر پر ہے ۔قانون کی بالادستی نہ ہونے کی وجہ سے کرپشن ،غربت ،جہالت ،عدم توازن اور انتہا پسندی جنم لیتی ہے اور احتساب کے بغیر قانون کی حکمرانی بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے ۔ہمارے عوام کی اکثریت صرف اس لئے اپنے حقوق سے محروم ہے کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں اور حقوق کاادراک نہیں اور اقتدار پر مسلط جاگیر دار ،وڈیر ے اور سرمایہ دار سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت عوام کو جہالت کی تاریکیوں کا اسیراور قومیت ،لسانیت اور مسلکوں کے تعصبات ابھار کر تقسیم رکھنا چاہتے ہیں۔

           

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس