Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

وفاقی بجٹ 18-2017 کے لیے ترجیحات کا تعین

  1. حکومت کی طرف سے معاشی استحکام حاصل کرلینے کا دعویٰ بار بار دہرایا جاتاہے۔ حقائق اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے۔ ملکی معیشت مسلسل قرضوں میں دھنستی جا رہی ہے۔ جون 2016ءکے آخر تک پبلک ڈیٹ 22.5کھرب روپے تھا جس میں سے 2.8کھرب روپے نان گورنمنٹ قرض تھا۔ یعنی پبلک سیکٹر انٹرپرائززاور کمرشل بینکس وغیرہ کے لیے ہوئے قرض ۔ گورنمنٹ کا قرض 19.7کھرب روپے تھا۔ جس میں سے 13.6کھرب روپے اندرونی قرض اور 6.1کھرب روپے بیرونی قرض تھا،جوکہ جی ڈی پی کا 23.2فیصد تھا۔ اس وقت تک پبلک ڈیٹ 24کھرب روپے سے بڑھ چکاہے۔ 2013ءسے 2016ءتک تین سال میں حکومت نے 24بلین ڈالر کا بیرونی قرض لیا ۔ موجودہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی وغیرہ پر 1.15بلین ڈالرز ادا ہوئے۔ مجموعی قرض جی ڈی پی کا 66فیصد کے قریب ہے، جبکہ Fiscal Responsibility and Debt Limitation Actکے تحت قرض جی ڈی پی سے 60فیصد زیادہ نہیں ہوسکتا۔ قرضوں کی ادائیگی پر بھاری رقوم خرچ کرنے کی وجہ سے ایک طرف معاشی استحکام خطرے میں پڑتاہے اور دوسری طرف انفراسٹرکچر اور سوشل سیکٹر (تعلیم اور صحت وغیرہ) پر خرچ کے لیے کم رقوم دستیاب ہوتی ہیں۔اس وقت ہر پاکستانی ایک لاکھ سے زیادہ کامقروض ہے۔ قرضوں میں مسلسل بڑھوتری کی وجہ اندرونی طور پر آمدنی کم اور خرچ زیادہ اور بیرونی تجارت میں درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہیں ۔آمدنی (ریونیو) اخراجات کے مقابلے میں تقریباً ڈیڑھ کھرب روپے کم ہے۔ جب کہ درآمدات برآمدات کے مقابلے میں تقریباً 20بلین ڈالر زیادہ ہیں۔ ان دونوں محاذوں پر خسارے کو پورا کرنے کے لیے جو اقدامات اٹھائے جاتے ہیں ان میں سے اہم ترین قرض لیناہے۔سالانہ کل اخراجات کا تقریباً 47فیصد قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوتاہے۔ کل قرض سالانہ ریونیو کا تقریباً 600گنا ہوچکاہے۔
    درآمدات زیادہ اور برآمدات کم ہونے کی وجہ سے موجودہ مالی سال کے پہلے 10ماہ میں کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ 19.936بلین ڈالر یعنی جی ڈی پی کا 2.7فیصد ہوچکاہے۔ گذشتہ دنوں وزیراعظم کی زیرصدارت نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں آئندہ سال یعنی 2017-18کے لیے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے کاتخمینہ 10.4بلین ڈالر لگایاگیا۔ اسی طرح موجودہ مالی سال کے پہلے دس ماہ میں ایف بی آر کی طرف سے اپنے ہدف (سالانہ 3.6کھرب روپے )کے مقابلے میں 157بلین روپے کم ریونیو اکٹھا کیاگیا ۔ اندازہ ہے کہ جون 2017ءکے آخر تک یہ خسارہ 300بلین روپے ہوجائے گا۔ ان تجارتی خساروں اور بجٹ خساروں کو پوراکرنے کے لیے قرض لیے جاتے ہیںاور پھر قرض ادا کرنے کے لیے اور قرض لیے جاتے ہیں۔ گذشتہ سا ل تک بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے ترسیل زر مذکورہ دونوں خساروں کو ایک حد تک پورا کرنے کے لیے کام آتی تھی لیکن موجودہ مالی سال میں اس میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور یہ گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال 3فیصد کمی کا شکار ہے۔ اس ضمن میں کچھ حد تک بیرونی سرمایہ کاری بھی کام آجاتی ہے۔ لیکن پاکستان میں ماسوائے سی پیک کے کوئی قابل ذکر بیرونی سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ۔ واحد حل برآمدات میں اضافہ کرکے زرمبادلہ کمانا ہے۔ جنور ی2017ءمیں وزیراعظم کی طرف سے 180ارب روپے کے پیکیج کے اعلان کے باوجود برآمدات میں اضافہ نہیں ہوسکابلکہ جولائی 2016ءسے مارچ 2017ءتک برآمدات میں 3.9فیصد کمی واقع ہوئی ۔ ان تلخ حقائق کے علی الرغم حکمران جماعت اپنے دور اقتدار کے پانچویں بجٹ میں الیکشن کے پیش نظر پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کو ایک کھرب روپے سے زیادہ تک لے جانا چاہتی ہے۔ حلقہ جاتی ترقیاتی پروگراموں کے لیے اپنی جماعت کے پارلیمنٹرینز کو 50ملین روپے فی کس دینے کا پروگرام رکھتی ہے تاکہ وہ الیکشن اخراجات آسانی سے پورے کرسکیں۔ اس سے ملکی قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا۔
    بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لیے حکومت ٹیکسوں کے نظام میں بنیادی اصلاحات کرے تاکہ خوشحال طبقے سے براہ راست ٹیکس کے ذریعے کم آمدنی والے لوگوں کی فلاح و بہبو د کے لیے مالی وسائل میسر آسکیں۔ دنیا بھر میں اس حقیقت کو تسلیم کیاجاتاہے کہ بلاواسطہ ٹیکس کے ذریعے خوشحال طبقے سے وسائل کو کم ترقی یافتہ علاقوں اور کم آمدنی والے لوگوں کی طرف موڑا جاسکتاہے۔ لیکن یہاں بلاواسطہ ٹیکس (یعنی انکم ٹیکس ) بھی وو د ہولڈنگ ٹیکس (بالواسطہ )کے ذریعے جمع کیاجاتاہے۔ جس کا حجم بلاواسطہ ٹیکس کے ذریعے جمع ہونے والی رقم کے 66فیصد سے بھی زیادہ ہے۔
    خوشحال لوگوں کا بہت بڑا طبقہ ٹیکس نیٹ سے باہر ہے۔ تقریباً 60ملین افراد سے زیادہ موبائل فون رکھنے والے پاکستانی 14فیصدایڈوانس انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔علی الرغم اس بات کے اُن کی صافی آمدنی 4لاکھ روپے سالانہ ہے یانہیں۔اسی طرح سے وہ 19.5فیصد سیلز بھی ادا کرتے ہیں۔ دوسری طرف اندازاً 18لاکھ افراد سالانہ کثرت سے بین الاقوامی سفر کرتے ہیں، 7لاکھ کے قریب پاکستانیوں کے پاس ایک سے زیادہ بینک اکاﺅنٹس ہیں، ایک لاکھ سے زیادہ پاکستانی پوش علاقوں میں رہتے ہیں،80ہزار سے زیادہ لگژری گاڑیاں رکھتے ہیں،90ہزار سے زیادہ افراد بھاری یوٹیلٹی بلز ادا کرتے ہیں ، 2لاکھ سے زیادہ پروفیشنلز (انجینئرز،ڈاکٹرز ، وکلاءاور چارٹرڈ اکاﺅنٹنٹس )وغیرہ ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثریت ٹیکس ریٹرن داخل نہیں کرتے ۔ 25لاکھ افراد نے انکم ٹیکس کا این ٹی این نمبر حاصل کیا۔ لیکن 10لاکھ سے کم افرادنے انکم ٹیکس ریٹرن داخل کیں ۔ اصل مسئلہ بہت اوپر کی کلاس کے اُمراءہیں ،جن سے اُن کی اپنی حقیقی آمدنی پر ٹیکس وصول نہیں کیاجارہا، جس میں تسلسل سے حکومتیں ناکام رہی ہیں۔ پہلے کی طرح موجودہ حکومت بھی اسی روش پر قائم ہے۔
    سوشل سیکٹر (بالخصوص تعلیم اور صحت ) پر اسی خطے میں واقع دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم وسائل خرچ کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر تعلیم کے شعبہ پر مالی سال 2011ءسے مالی سال 2015ءتک جی ڈی پی کا صرف 1.8فیصد سے 2.2فیصد خرچ کیاگیاہے۔صحت پر جی ڈی پی کا 2فیصد سے کم خرچ کیاجارہاہے۔ موجودہ حکومت کے دور میں موٹرویز ،بڑی شاہراﺅں ،انڈرپاسز ،میٹرو بس ،اورنج ٹرین وغیرہ پر بے پناہ وسائل خرچ کیے گئے لیکن تعلیم اور صحت کے شعبے حکومتی زبانی دعوﺅں کے باوجود عملی طور پر ان کی ترجیحات میں شامل نہ ہوسکے۔ علاقائی حوالے سے حکومتی ترجیحات بہت زیادہ ناانصافی پر مبنی ہیں۔ مثلاً سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے حالیہ بجٹ میں اضلاع کی ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے 58فیصد فنڈ زلاہور پر خرچ کیے گئے ، 3فیصد فنڈز ملتان پر خرچ کیے گئے اور باقی تمام اضلاع میں 3فیصد سے بھی کم فنڈز خرچ کیے گئے ۔ انہی پالیسیوں کی وجہ سے علاقائی طور پر اور طبقاتی لحاظ سے آمدنی کی تقسیم میں بہت زیادہ عدم مساوات ہے۔
    ملک کی 70فیصد آبادی بالواسطہ یا بلاواسطہ زراعت کے شعبے سے منسلک ہے۔ مجموعی قومی پیداوار میں اس کاحصہ 21فیصد سے زیادہ ہے۔ کل لیبر فورس کا 44فیصد اس شعبہ میں کھپاہواہے۔ مجموعی برآمدات میں 66فیصد حصہ زراعت کاہے۔ ان بنیادی حقائق کے باوجود زراعت کاشعبہ 1947ءسے لے کر آج تک کسی حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا۔ اس وقت یہ شعبہ فی ایکڑ کم اوسط پیداوار ،پانی کی کمی ، جدید ٹیکنالوجی تک عدم رسائی اور کم آگاہی ، موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت کا فقدان ،پیداوار ی لاگت میں اضافہ ، بین الاقوامی منڈی میں عدم مسابقت وغیرہ جیسے گھمبیر بنیادی مسائل کا شکار ہے۔ جب تک ریسرچ اور ڈویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دے کر اعلیٰ کوالٹی کے سستے بیج اور قابل اعتماد جدید ٹیکنالوجی کو عام کسان کی رسائی تک نہیں لایا جاتا ، پانی کی کمی کا مسئلہ حل نہیں کیاجاتا ،زرعی
    مداخل پر سیلز ٹیکس ختم کرکے پیداواری لاگت کم نہیں کی جاتی ،موسمیاتی تبدیلیوں کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کے لیے کسان کو آگاہی اور ٹیکنالوجی مہیانہیں کی جاتی ، بین الاقوامی معیار کے مطابق اضافی پیداوار حاصل کرکے اسے ایکسپورٹ نہیں کیا جاتا ، اہم فصلات کی کم ازکم قیمت مقرر کرکے کسانوں کو اس کے مطابق معاوضہ نہیں دلوایا جاتا زراعت کے شعبہ میں مطلوبہ بہتری ایک خواہش ہی رہے گی۔
    ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی جاری اخراجات میں فوری طور پر کمی کی جائے ۔ برآمدات میں فوری بڑھوتری کے لیے بجلی اورگیس وغیرہ کی قیمتوں میں کمی کرکے پیداواری لاگت کو کم کیا جائے۔ بیرون ملک مناسب منڈیوں کی تلاش کرکے وہاں کی مانگ کے مطابق مال تیار کرکے برآمد کیاجائے۔ روایتی اشیاءپر انحصار کی بجائے جدت پسندی اختیار کرکے بیرون ملک کے خریداروں کی پسند کے مطابق اشیاءتیار کروائی جائیں ۔ زراعت کے شعبے میں کپاس خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ جس کی پیداوار میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور ایکسپورٹ کرنے کی بجائے اب درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح سے پھلوں آم ،کینوں ،امروداور سبزیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنا کر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیاجاسکتاہے۔ قرضوں کی بجائے ملکی وسائل پر انحصار کرکے انہیں بروئے کار لایاجائے۔ غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے او ر برآمدات کنندگان کے Refundsروک کر جعلی طو رپر ریونیو کی بڑھوتری کا تاثر دینے کی غلط روش کو تر ک کیاجائے اور جائز Refundsکو فوراً اداکیاجائے تاکہ برآمدکنندگان ورکنگ کیپٹل کی کمی کا شکار نہ ہوں۔ #

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس