Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

حکومت احترام رمضان آرڈی نینس پر عملدرآمد کرائے

  1. رمضان المبارک کے موقع پر گزشتہ سالوں میں موجودہ حکومت کی طرف سے بروقت، ٹھوس اور سنجےدہ اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے رمضان المبارک مےںمہنگائی عروج پر رہی اور پورے پاکستان میں انتظامیہ کی طرف سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا ۔آئین پاکستان میں اسلامی طرز زندگی کی جو گارنٹی دی گئی ہے حکومت نے گزشتہ رمضان المبارک کے بابرکت اور پرنور مہینہ میں بھی اس طرف کو ئی توجہ نہیں دی۔ دنیا بھر کے اسلامی ممالک میں رمضان المبارک کے موقع پر حکومت کی طرف سے خصوصی طور پر منصوبہ بندی کی جاتی ہے لیکن پاکستان وہ واحد اسلامی ملک ہے جہاں حکمران رمضان المبارک کے مہینہ کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اور اسی وجہ سے اس بابرکت مہینے میں بھی عوام معیاری اور سستے داموں اشیائے خورد و نوش کے حصول سے محروم رہتے ہیں، لہٰذاحکومت رمضان المبارک کے حوالے سے وفاق، صوبائی حکومتوں اورتمام متعلقہ اداروں کے لیے ضابطہ ¿ اخلاق جاری کرے۔اشےائے ضرورت بالخصوص اشےائے خورد و نوش کی وافر مقدار میں بروقت فراہمی ےقےنی بنائی جائے اور اِن اشےاءکے نرخوں مےں کم از کم 30 فےصد رعاےت دی جائے اور دی جانے والی رعایت پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔رمضان المبارک کے مہینہ میں ہر یونین کونسل میں کم از کم 2 رمضان سستے بازار کھولے جائیں جہاں پر یہ اشیاءرعایتی نرخوں پر دستیاب ہوں۔رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں روزہ داروں کو اشیاءمہیا کرنے والے ریڑی بان،چھابڑی والے سبزی، فروٹ، کھجوراوردیگر اشیائے خوردونوش کے سٹال ہولڈرزکا کسی صورت بھی سامان ضبط نہ کیا جائے اور اگر کوئی ریڑی بان،چھابڑی والا قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسکو صرف تنبیہ کی جائے۔گزشتہ سال حکومت کی طرف سے یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے دی جانے والی پونے دو ارب کی سبسڈی سے عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا، اس لیے امسال وفاقی کابےنہ رمضان المبارک کی اہمےت کے پےش نظرکم از کم سات ارب سبسڈی کااعلان کرے ۔اوپن مارکیٹ میں قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے۔ اشیاءکی قلت پر قابو ، قیمتوں میں کمی ، نیز ناجائز منافع خوری کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے مو ¿ثر منصوبہ بندی کی جائے۔ گذشتہ سالوں کے تلخ تجربات نے یہ ثابت کیا ہے کہ عوام کو یوٹیلٹی سٹورزپر غیر معیاری اشیاءلائنوں میں لگ کر خریدنی پڑتی ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ وفاقی حکومت اس حوالے سے بھی خصوصی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ملک بھر میں سستے داموں معیاری اشیاءکی فراہمی کو یقینی بنائے۔ تاجروں، صنعت کاروں کو از خود قیمتیں کم کرنے کی ترغیب اور ہرسطح پر قانون کی پابندی کرائی جائے۔وفاقی حکومت رمضان المبارک مےں دی جانے والی رےلےف کی تفصےلات پرنٹ اور الےکٹرانک مےڈےا پر جاری کرے اور ہر یونین کونسل میں ایک ذمہ دار افسر کا تقرر کیا جائے تاکہ عوام الناس کو اطمےنان ہو اور وہ رےلےف نہ ملنے کی صورت مےں متعلقہ آفیسر سے رجوع کرسکےں۔ حکومت رمضان المبارک کے پورے مہینے کے دوران گےس، بجلی کی فراہمی کو ےقےنی بنائے، خصوصاً سحری ،افطاری، تراوےح اور تہجدکے اوقات مےں گےس، بجلی اور پانی کی بلاتعطل فراہمی کو ےقےنی بناےا جائے۔ بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی صورت اضافہ نہ کیا جائے۔برانڈڈ کمپنیز کو پابند کیا جائے کہ وہ رمضان المبارک کے پیش نظر اشیاءخوردونوش کی قیمتوں میں خصوصی کمی کا اعلان کریں۔عام راستوں اور سےنما گھروں کی دےواروں پر آوےزاں فحش اور غےر اخلاقی پوسٹرز رمضان المبارک کے تقدس کو پامال کرنے کا باعث بنتے ہیں۔ لہٰذا اےسے غےر اخلاقی پوسٹرز، بےنرز، سائن بورڈز وغےرہ پر مکمل پابندی عائد کی جائے ۔تمام شیشہ سنٹرزاور اسی نوعیت کے دیگر مقامات کو سیل کر دیا جائے۔فحاشی پر مبنی ہر قسم کی سرگرمیوں کو کنٹرول کرنے کے لیے تھانہ کی سطح پر پولیس کو مکمل اختیار دیے جائیں۔الیکٹرانک میڈیا پر چلنے والے غیر اخلاقی پروگرامات اور خصوصا مارننگ شوز کے نام پر جاری فیشن شوز اور بے ہودہ پروگرامات پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ سرکاری و نجی ٹی وی چینلزاوررےڈےو پر قرآنِ کریم کی تلاوت مع ترجمہ و تفسےر کے لےے زیادہ اوقات مختص کیے جائیں۔ سرکاری اور نجی ٹی وی چینلز،پرنٹ میڈیا ، بالخصوص اےف اےم رےڈےوز پر چلنے والے تمام غےر اخلاقی ،بیہودہ اور گانے بجانے کے پروگرامات اور نشریات کو بند کیا جائے۔ بسوں، وےگنوں، سوزوکےوں، کاروں اور دےگر پبلک ٹرانسپورٹ مےں گانا بجانے، وےڈےو چلانے پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور اس پر عملدرآمد کے سلسلے مےں ٹرےفک پولےس کے اہلکاروں کو خصوصی اختےارات تفوےض کےے جائےں۔اخبارات، رسائل اور دےگر ذرائع ابلاغ نےز راستوں، شاہراہوں اور ہر قسم کے پبلک مقامات سے اسلامی طرزِ معاشرت کے منافی سائن بورڈز، ہورڈنگز، بےنرز، پوسٹرز وغےرہ ہٹادےے جائےں اور اُن کی جگہ رمضان المبارک کے فضائل و برکات سے متعلق آےاتِ قرآنی اور احادےثِ مبارکہ تحرےر کےے اور کرائے جائےں۔ غیراخلاقی ،فحش آڈےو، وےڈےو فلموں اور گانوں کی خرےد و فروخت اور نمائش کا کاروبار کرنے والی تمام دوکانوں کو رمضان المبارک میں مکمل بند رکھا جائے۔ الےکٹرانک مےڈےا سے زےادہ سے زےادہ تعداد مےں اےسے پروگرامز نشر کےے جائےں جو رمضان المبارک کے فضائل و برکات، روزہ رکھنے کی اہمےت اور اللہ تعالیٰ کے ہاں روزہ دار کے اجر و ثواب جےسے موضوعات پر مبنی ہوں۔حکومت کو چاہئے کہ ملک بھر مےں اےک ہی دن رمضان المبارک اور عےدالفطر کو ےقےنی بنانے کے لےے روےتِ ہلال کمےٹی کے ساتھ ساتھ ماہرےنِ محکمہ موسمےات اور جدےد ترےن سائنسی آلات سے بھی بہتر انداز مےں استفادہ کےا جائے۔ تاکہ مکمل اتفاقِ رائے سے ملک بھر مےں ےکساں تارےخوں مےں رمضان المبارک اور عےدالفطر کے انعقاد کو ےقےنی بناےا جاسکے۔گزشتہ سالوں میں خیبر پختونخواہ کے وزیر مذہبی امو ر نے انتہائی محنت اور مشاورت سے ایک ہی تاریخ میں عیدالفطر کو یقینی بنایا جس سے امسال بھی استفادہ کیا جانا چاہیے۔حکومت احترامِ رمضان المبارک آرڈی نےنس 1981ءپر عملدرآمد کو ےقےنی بنانے کے لےے عملی اقدامات اُٹھائے۔اور اس پر عملدرآمد کا ہفتہ وار جائزہ جاری کیا جائے۔رمضان المبارک مےں اپنے شعوری کوشش کےساتھ اس کے تمام آداب کو مد نظر رکھنا ہی اےک زندہ مسلمان ہونے کا ثبوت ہے۔رمضان المبارک مےںتمام امور پر مﺅثر کنٹرول،قےمتوں میں خاطر خواہ کمی کرنے اورسابقہ سالوں کے تلخ تجربات کو دہرانے سے بچنے کے لےے ضروری ہے کہ ابھی شعبان المکرم کے مہےنہ سے ہی پاکستان بھر مےں ٹھوس بنےادوں پر منصوبہ بندی کی جائے اور اس کے لےے ہنگامی بنیادوں پر کا م کیا جائے۔نماز تراویح ،نماز فجر ،جمعتہ المبارک کے مواقع پر
    مساجد،امام بارگاہوں اور دینی مدارس کی سیکیورٹی کا خصوصی خیال کیا جائے۔حکومت پورے ملک میں مزدوروں کے کام کے اوقات میں کمی ،ان کی سحری اور افطاری کا بندوبست،عید کے موقع ان کو بروقت چھٹیاں اور آجر کی طرف سے عیدی اور تنخواہ کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے حوالہ سے اقدامات کیے جائیں۔رمضان المبارک سے قبل اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ انتہائی افسوس ناک امر ہے۔ اس سے حکمرانوں کو سوائے بددعاﺅں کے کچھ نصیب نہیں ہوگا۔ توقع کی جاتی ہے کہ حکومت مندرجہ بالا اقدامات کو عملی جامہ پہنانے کے لےے تمام ضروری رےاستی وسائل کو بروئے کار لائے گی، تاکہ رمضان المبارک کے آداب اور اس کے احترام و تقدس کو ےقےنی بناےا جاسکے۔
    Attachments area

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس